ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / سابق میئر سپمت راج کو پناہ دینے والا گرفتار

سابق میئر سپمت راج کو پناہ دینے والا گرفتار

Tue, 17 Nov 2020 10:32:27    S.O. News Service

بنگلورو،17؍نومبر(ایس او نیوز) شہر کے ڈی جے ہلی اور کے جی ہلی علاقہ میں تشدد کے سلسلہ میں پولیس کو مطلوب سابق میئر سمپت راج اور کارپویٹر اے آر ذاکر سمیت دیگر مطلوبہ ملزمین کو بنگلورو سے فرا ر سے پہلے کچھ دنوں تک پناہ دینے کے الزام میں شہر کی سنٹرل کرائم برانچ پولیس نے ریاض الدین نامی ایک ملزم کو گرفتار کرلیا ہے۔

الزام ہے کہ ریاض سمپت راج اورذاکر دونوں کے قریبی دوست ہیں اور انہوں نے فرار ہونے سے قبل شہر میں ان دونوں کے چھپنے کا انتظام کیا تھا۔ بعد میں انہوں نے ہی سمپت اور ذاکر کو فرار ہونے میں مدد فراہم کی۔ اپنی ہی کار میں انہوں نے ناگر ہولے کے قریب موجود ایک فارم ہاؤس تک ملزمین کو پہنچایا۔ اس فارم ہاؤز میں سمپت راج اور ذاکر نے کچھ دنوں تک قیام کیا اور بعد میں وہاں جب سی سی بی کی ٹیم پہنچی تو دونوں اس مقام سے بھی فرار ہو گئے۔ جائنٹ کمشنر آف پولیس سندیپ پاٹل نے ریاض الدین کو گرفتار کئے جانے کی اطلاع دی۔

انہوں نے کہا کہ ریاض الدین کو گرفتار کئے جانے کے بعد ان سے بیان لیا گیا اور پھر عدالت میں پیش کیا گیا جہاں انہیں عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا ہے۔ ریاض الدین کی طرف سے دی گئے معلومات کی بنیاد پر سمپت راج اور دیگر ملزمین کی گرفتاری کے لئے انتظامات کئے جا رہے ہیں۔

اس دوران سابق میئر سمپت راج کو جلد ز جلد گرفتار کرنے کرناٹک ہائی کورٹ کی ہدایت کے مد نظر پیر کے روز شہر کے پولیس کمشنر نے شہر کے ایڈیشنل کمشنر آف پولیس (کرائم) سندیپ پاٹل اور سی سی بی کے دیگر اعلیٰ عہدیدارو ں کے ساتھ ایک میٹنگ کی او ر اب تک سمپت راج کو گرفتار کرنے کے لئے کسی طرح کی پیش رفت نہ ہونے پر سی سی بی افسروں سے جواب طلب کیا۔

انہوں نے اس سلسلہ میں کہا کہ ڈی جے ہلی اور کے جی ہلی تشدد کے سلسلہ میں دیگر ملزمین کو گرفتار کرنے میں سی سی بی نے جو تیزی دکھائی وہی پھرتی اب سمپت راج کو پکڑنے میں کیوں نہیں دکھائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سمپت راج کو پکڑنے میں جتنی تاخیر ہو رہی ہے بنگلورو پولیس کی ساکھ اتنی ہی زیادہ متاثر ہو رہی ہے اس لئے فور اً سمپت راج کو دھونڈ کر پکڑا جائے۔ سمپت راج کو پکڑنے میں سی سی بی کی سست روی پر ہائی کورٹ نے بھی دو دن قبل برہمی کا اظہار کیا تھا، اعلیٰ افسروں کی میٹنگ کے دوران عدالت کے تبصرے کا بھی سنجیدگی سے نوٹ لیا گیا۔


Share: